Best Short Story in 2022

مجھے کمرے میں کچھ گڑبڑ محسوس ہوئی اور میں نے اُٹھ کر چاروں طرف نظریں گھمائیں‘پھر ایک جانب مجھے کوئی چیز تیزی سے حرکت کرتی نظر آئی

Best Short Story in 2022

اجنبی مہمان

 

یہ چند ماہ پہلے کا واقعہ ہے مگر میرے لئے انتہائی یادگار بن گیا ہے کیونکہ یہ نہ صرف یادگار ہے بلکہ خاصا پُراسرار اور دلچسپ بھی ہے۔میرے بی اے کے امتحانات ہونے والے تھے مگر ان سے کچھ ہی دن پہلے اچانک میری طبیعت خراب ہو گئی۔
کئی روز تک بستر سے ہلا جُلا بھی نہ گیا۔ نقاہت اس قدر تھی کہ بستر سے اُٹھتی تو سر چکرانے لگتا اور مجبوراً مجھے دوبارہ لیٹ جانا پڑتا۔اس سب میں پڑھائی بھی ڈسٹرب ہو کر رہ گئی تھی۔ ڈاکٹر کی ہدایت پر مسلسل کئی روز دوا کھانے کے بعد کچھ افاقہ ہوا۔
اس دوران میرا ایک ہفتہ ضائع ہو گیا تھا اور کمزوری الگ محسوس ہو رہی تھی ۔امتحان سے ایک ہفتہ قبل امی نے مجھے سختی سے ہدایت کی کہ روز رات کو دودھ پی کر سونا ہے اور رات دیر تک پڑھائی نہیں کرنی۔
جو تیاری کرنی ہے وہ صبح اُٹھ کر کر لینا۔

امی روز رات کو دودھ اُبالنے کے بعد دودھ والی گڑوی میرے کمرے میں ہی رکھ دیتی تھی تا کہ ذرا ٹھنڈا ہونے پر میں اُس میں سے ایک گلاس نکال کر پی لوں اور باقی دودھ فریج میں رکھ دوں۔چنانچہ میں ایسا ہی کرتی۔
یہ دو روز بعد کی بات ہے۔
میں پڑھائی ختم کرنے کے بعد اُٹھی،دودھ والی گڑوی سے دودھ نکال کر گلاس میں ڈالا اور خود پینے کے بعد،یہ سوچ کر لیٹ گئی کہ ابھی دودھ گرم ہے،تھوڑی دیر بعد اسے فریج میں رکھ دوں گی۔جانے کس وقت میری آنکھ لگ گئی اور میں گہری نیند سو گئی۔

Related Articles

رات کا جانے کونسا پہر تھا جب اچانک میری آنکھ اچانک کسی برتن کے گرنے کی آواز سے کھل گئی۔مجھے کمرے میں کچھ گڑبڑ محسوس ہوئی اور میں نے اُٹھ کر چاروں طرف نظریں گھمائیں۔پھر ایک جانب مجھے کوئی چیز تیزی سے حرکت کرتی نظر آئی،جسے دیکھ کر میری گھگھی بندھ گئی۔
چھوٹی سے کوئی چیز کمرے کے فرش پر تیزی سے اُچھل رہی تھی اور اُس کی اس حرکت سے برتن گرنے کی آواز پیدا ہو رہی تھی۔اب میری نظریں نیم اندھیرے میں کچھ حد تک دیکھنے کے قابل ہو گئی تھیں۔اب جو میں نے غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ کوئی سیاہ رنگ کی چیز دودھ والی گڑوی کو لے کر اوپر نیچے ایسے اُچھل رہی ہے جیسے کوئی گیند ہو اور اسی سے وہ برتن گرنے جیسی آواز پیدا ہو رہی تھی۔
مگر ابھی تک میں یہ بات سمجھ نہیں سکی تھی کہ آخر وہ کیا چیز ہے۔اب شاید اس سیاہ چیز کو میری موجودگی کا احساس ہو گیا تھا اور اُس نے زیادہ زور زور سے اُچھلنا شروع کر دیا۔
میں اگرچہ بہت خوفزدہ تھی مگر نہ تو چیخ رہی تھی اور نہ ہی کمرے سے بھاگنے کی کوشش ہی کی تھی۔
پھر میں نے ہمت جمع کی اور اُٹھ کر کمرے کی لائٹ جلا دی۔اب منظر واضح تھا،سو میں نے گڑوی کی طرف بغور دیکھا․․․اوہ․․․․․․بے اختیار میرے منہ سے نکلا۔
سیاہ رنگ کی بلی گڑوی میں منہ پھنسائے بیٹھی تھی۔اب چونکہ اُس کا منہ گڑوی کے چھوٹے سے منہ میں پھنس کر رہ گیا تھا اس لئے وہ اپنی جھنجھلاہٹ اُچھل کود کر دکھا رہی تھی۔
کمرے میں اِدھر سے اُدھر اُس کی بھاگ دوڑ ایک عجیب منظر پیش کر رہی تھی اور مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں کیا کروں۔بلی کی کوئی مدد کروں یا اُسے پکڑوں․․․․․․کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی۔بلی اس قدر اشتعال میں تھی کہ اُسے پکڑنا بھی ممکن نہ تھا۔

اس دوران میرے کمرے سے آوازیں سن کر امی اور بھائی بھی آگئے۔اب سب کے سامنے وہی منظر تھا جسے میں کئی منٹ سے دیکھ رہی تھی۔ کسی کو بھی میری طرح اس صورتحال کا حل سمجھ نہیں آرہا تھا۔
پھر قدرت نے خود ہی اس کا حل نکال دیا۔
بھاگتی ہوئی بلی اچانک دیوار سے ٹکرائی اور پھر اُس نے زور سے اپنے سر کو جھٹکا دیا۔تبھی اس کا سر گڑوی سے نکل آیا۔کچھ دیر کے لئے بلیگ ٹھٹکی،جیسے وہ بھی منظر دیکھ کر حیران ہوئی ہو اور پھر اُس نے ہم سب کو حیران کرتے ہوئے کمرے میں لگے کولر کی طرف دوڑ لگا دی مگر جلد بازی میں وہ کولر کے اوپر لگے ہارڈ بورڈ میں اُلجھ گئی اور اُسے دوبارہ واپس آنا پڑا۔
اب اُس کے تیور اور خطرناک تھے وہ غُرّاتی ہوئی اِدھر اُدھر بھاگ رہی تھی اور اسے راستہ نہیں مل رہا تھا۔پھر وہ میرے کمرے سے باہر نکلی اور ٹی وی لاؤنج کی طرف دوڑی۔اب بھائی نے آگے بڑھ کر ٹی وی لاؤنج سے باہر جانے والا دروازہ کھول دیا۔
بلی فوراً اس طرف آئی اور باہر نکل گئی۔یوں یہ معاملہ ختم ہو گیا۔
اب اس بات پر غور شروع ہوا کہ بلی کے ساتھ کیا اور کیسے ہوا۔سب کی مشترکہ تفتیش سے یہ بات سامنے آئی کہ رات کسی وقت بلی کولر کے راستے سے میرے کمرے میں آئی تھی اور اس نے دودھ کی خوشبو سے مجبور ہو کر گڑوی کے اندر پڑا ہوا تھوڑا سا دودھ پینے کے لئے اپنا منہ اندر تک گھسا دیا تھا۔بس پھر اس کے ساتھ وہی ہوا جو اوپر بیان کر چکی ہوں۔


 

Few lines about (story):

There are many ways to tell the same storey, but the most common is through words (written or spoken), images of still and moving, body language, music or other forms of communication. You can tell a storey about anything, and the events described can be realistic or imaginary fiction or nonfiction, and no topic, genre, or style is off-limits to you when telling a storey. Regardless of time or place, there are stories to know about everything. You’re telling a report whenever you’re recounting a series of events, irrespective of the subject matter or the period in which they occurred. Because of their historical and cultural significance, stories rank among the oldest and most important aspects of human life.

Storytelling is the foundation of creativity and an essential component of just about everything we do, especially in the realms of entertainment, recording, and reporting. In this way, they can be accessed in various mediums, from oral and written storytelling to television and radio shows, from fine arts to stage performances, and so on.

Storytelling has existed in some form or another in human culture and society for a very long time, possibly since the dawn of time. They can be found throughout history and in every region and language, in people of every culture, religion, and ethnicity. A story’s concept can be a bit of a stumbling block to explain or cover fully. Some believe that life is a never-ending series of novels. Everything has a storey, from the simplest commute to school or work to the most significant events in our lives.

In 2022 we will provide the best short stories you would like our stories. Share this with your friends.

Best Short Story in 2022:

If you enjoyed this story, please spread the word about it by posting it on your social media accounts and encouraging your friends to visit pktopweb.com to see more of it our work. Thank you!

See also  Best Story for Youngsters in 2022

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button